Friday, 11 December 2020

آئینہ دیکھ کے حیران ہوا جاتا ہے

 آئینہ دیکھ کے حیران ہوا جاتا ہے

عشق کیسے کسی انسان کو کھا جاتا ہے

جب کبھی زور پکڑتی ہے مخالف کی ہوا

مجھ میں منزل کا جنوں اور سما جاتا ہے

تم پہ بھی رنگ چڑھا ڈالے ہیں اِس دنیا نے

میں نہیں مانتی پر ایسا کہا جاتا ہے

کس نے چل دینا ہے اور کس نے کھڑے رہنا ہے

وقت ظالم ہے بہت خود ہی بتا جاتا ہے

کس قدر آج یہ طوفان اٹھا یادوں کا

آنکھ کے ساتھ کلیجہ بھی بہا جاتا ہے

ماں کے قدموں میں جسے راحتِ جاں ملتی ہے

وہ تو دنیا میں ہی جنت بھی کما جاتا ہے


مقدس حریم

No comments:

Post a Comment