آئینہ دیکھ کے حیران ہوا جاتا ہے
عشق کیسے کسی انسان کو کھا جاتا ہے
جب کبھی زور پکڑتی ہے مخالف کی ہوا
مجھ میں منزل کا جنوں اور سما جاتا ہے
تم پہ بھی رنگ چڑھا ڈالے ہیں اِس دنیا نے
میں نہیں مانتی پر ایسا کہا جاتا ہے
کس نے چل دینا ہے اور کس نے کھڑے رہنا ہے
وقت ظالم ہے بہت خود ہی بتا جاتا ہے
کس قدر آج یہ طوفان اٹھا یادوں کا
آنکھ کے ساتھ کلیجہ بھی بہا جاتا ہے
ماں کے قدموں میں جسے راحتِ جاں ملتی ہے
وہ تو دنیا میں ہی جنت بھی کما جاتا ہے
مقدس حریم
No comments:
Post a Comment