Friday, 11 December 2020

حفاظت کی طلب میں ہم کہاں تک آن پہنچے ہیں

 قلعہ بند


تو اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے

ہمارے گھر کے دروازے پہ

ان لوگوں کا پہرہ ہے کہ جن سے کوئی بھی رشتہ نہیں اپنا

یہ کن گلیوں کی زینت ہیں مکاں اپنے

نہ جن کی دھوپ اپنی ہے نہ جن کے سائباں اپنے

نہ ہے ان کی زمیں اپنی نہ ان کے آسماں اپنے

فقط رکھے گئے ہر موڑ پر کچھ امتحاں اپنے

حفاظت کی طلب میں ہم

کہاں تک آن پہنچے ہیں؟


شاہین مفتی

No comments:

Post a Comment