قلعہ بند
تو اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے
ہمارے گھر کے دروازے پہ
ان لوگوں کا پہرہ ہے کہ جن سے کوئی بھی رشتہ نہیں اپنا
یہ کن گلیوں کی زینت ہیں مکاں اپنے
نہ جن کی دھوپ اپنی ہے نہ جن کے سائباں اپنے
نہ ہے ان کی زمیں اپنی نہ ان کے آسماں اپنے
فقط رکھے گئے ہر موڑ پر کچھ امتحاں اپنے
حفاظت کی طلب میں ہم
کہاں تک آن پہنچے ہیں؟
شاہین مفتی
No comments:
Post a Comment