Friday, 11 December 2020

مِرے دفتر کے قصے میں صنم خانے بہت ہیں

 دفتر نامہ


مِرے دفتر کے قصے میں

دھواں ہے

پاپیادہ وحشتیں ہیں

ادھ کھلے جسموں کے پردے سے

نکلتی لڑکیاں ہیں


مرغزاروں میں

ہوا اور بارشوں کے روبرو

کچھ کھڑکیاں ہیں

پھول ہیں

روشن ستارہ ہے

سفر اندر سفر لکھی کہانی ہے

ہوا اور بادلوں کے بیچ

مرگِ ناگہانی ہے

کہیں لاکھوں کروڑوں دن

مِری سانسوں سے لپٹے ہیں

مِرے دفتر کے قصے میں

مِری بالشت بھر

امید کی چادر کا کونہ ہے

مِرے پَل بھر کا ہونا ہے

سفر کی بے سر و سامانیاں ہیں

اک سگِ خوں نوش کی دُم ہے

جو ہلتی ہے تو میں

حیرت سرائے عشق سے

باہر نکلتا ہوں

اسے وہم و گماں کی سرحدوں میں

اپنی آنکھوں پہ لگاتا ہوں

تو میری شام ڈھلتی ہے

مکاں اور لا مکانی میں

حقیقت گم ہے

افسانے بہت ہیں

مِرے دفتر کے قصے میں

صنم خانے بہت ہیں


فرخ یار

No comments:

Post a Comment