شہرتِ عشق کمانے سے الگ ہوتے ہیں
ہم سرِ دست، فسانے سے الگ ہوتے ہیں
عشق کی ڈور سے باندھے ہوئے لیلیٰ مجنوں
کب ترے دھونس جمانے سے الگ ہوتے ہیں
چھوڑ فرسودہ بہانے، وہ پرانے حیلے
ہم نئے یار، بہانے سے الگ ہوتے ہیں
ایسے لگتا ہے بھرے شہر میں تنہا سے ہیں
جیسے ہی آپ کے شانے سے الگ ہوتے ہیں
ہم حقیقت سے جڑے لوگ، کتابوں والے
کسی قصے سے، فسانے سے الگ ہوتے ہیں
یہ جو چاہیں تو زمیں رشکِ فلک کر ڈالیں
ہاں یہ پاگل سے دِوانے سے الگ ہوتے ہیں
جانے وہ سیکھ کے آیا ہے کہاں سے یہ فن
زخم ہر بار پرانے سے الگ ہوتے ہیں
ہم نہیں ہوتے ہیں تاثیر زمانے جیسے
ہم زمیں پوش، زمانے سے الگ ہوتے ہیں
تاثیر جعفری
No comments:
Post a Comment