دھول اُڑاتی ہے ہوا، روتا ہے پیاسا صحرا
روح پر اُس نے مِری زخم لگایا گہرا
دلِ کم مایہ میں کس طرح سماتے دونوں
غم کا صحرا تھا وسیع، اشکوں کا دریا گہرا
میں نظر بھر کے اسے دیکھنا چاہوں لیکن
دے رہا ہے مِری آنکھوں کا یہ سُرما پہرا
چودھویں رات کے ماہتاب سے روشن ہے کہیں
وہ مِری ماں کا محبت بھرا سادہ چہرہ
دیکھ کر ظلم تِرا دھرتی نے کروٹ لی تھی
ورنہ خاموش فلک، دریا بھی تیرا بہرہ
دیکھنا رنگ بھی برسیں گے یہاں بارش میں
تُو کھلی چھت پہ اگر، اپنا دوپٹا لہرا
اپنی منزل سے بھٹک جائیں گے سیما وہ بھی
گر مِرا دل کوئی دم ان کا ٹھکانا ٹھہرا
عشرت معین سیما
No comments:
Post a Comment