Friday, 11 December 2020

سرنگوں موسم بہار میں ہے

سرنگوں موسم بہار میں ہے

یہ شجر کس کے انتظار میں ہے

تابِ نظارہ آنکھ کو بھی نہیں

دل بھی کب اپنے اختیار میں ہے

زیست ہو، بات ہو کہ مجلس ہو

لطف گر ہے تو اختصار میں ہے

وہ بس اک بار چھو کے گزرے تھے

روح تک لمس کے خمار میں ہے

کیسا الٹا سفر ہے جیون کا

یہ چڑھاؤ، کسی اتار میں ہے

زیست کرنے میں لطف کیا ڈھونڈیں

کیا مزہ وقتِ مستعار میں ہے

بات کچھ تو عجیب ہے اب کے

کیسی تلخی مزاجِ یار میں ہے


شہزاد واثق

No comments:

Post a Comment