Friday, 11 December 2020

حد سے بڑھ کر میں ترا دھیان نہیں رکھوں گا

 حد سے بڑھ کر میں ترا دھیان نہیں رکھوں گا

اب بچھڑنے کا بھی امکان نہیں رکھوں گا

ایک اک پھول مجھے یاد دلاتا ہے تری

گھر میں اپنے میں یہ گلدان نہیں رکھوں گا

آپ بچ کر رہیں مجھ سے، میں بہت منہ پھٹ ہوں

یار! میں آپ کا بھی مان نہیں رکھوں گا

نیند اڑا دوں گا مرے خواب چرائے گا جو شخص

میں کسی کا کوئی احسان نہیں رکھوں گا

مجھ کو معلوم ہے تو قدر مری کھو دے گا

خود کو تیرے لیے آسان نہیں رکھوں گا


حذیفہ ہارون

No comments:

Post a Comment