حد سے بڑھ کر میں ترا دھیان نہیں رکھوں گا
اب بچھڑنے کا بھی امکان نہیں رکھوں گا
ایک اک پھول مجھے یاد دلاتا ہے تری
گھر میں اپنے میں یہ گلدان نہیں رکھوں گا
آپ بچ کر رہیں مجھ سے، میں بہت منہ پھٹ ہوں
یار! میں آپ کا بھی مان نہیں رکھوں گا
نیند اڑا دوں گا مرے خواب چرائے گا جو شخص
میں کسی کا کوئی احسان نہیں رکھوں گا
مجھ کو معلوم ہے تو قدر مری کھو دے گا
خود کو تیرے لیے آسان نہیں رکھوں گا
حذیفہ ہارون
No comments:
Post a Comment