Friday, 11 December 2020

تیری الفت وصول ہو جیسے

 تیری الفت وصول ہو جیسے 

نعمتوں کا نزول ہو جیسے 

تُو مرے آسماں کا تارہ ہے 

دل تری رہ کی دھول ہو جیسے 

تیرے تابع ہی چلنے لگتا ہے 

وقت تیرا اصول ہو جیسے 

تیرا دیدار ہو رہا ہے مجھے 

میری منت قبول ہو جیسے 

حسرتوں سے الجھتی رہتی ہوں 

زندگانی ببول ہو جیسے 

کپکپی سی بدن میں اتری ہے 

میری حالت ملول ہو جیسے 

اس تحیر سے تجھ کو سنتی ہوں 

ساری دنیا فضول ہو جیسے 


دلشاد نسیم

No comments:

Post a Comment