اس کی آواز کا یوں لطف لیا جاتا ہے
جیسے شادی میں کوئی گیت سنا جاتا ہے
سرحدی گاؤں کے جیسی ہے محبت اس کی
اتنے خطرات میں رہ کے بھی جیا جاتا ہے
وقت رخصت یہ کہا اس نے؛ سدا خوش رہنا
جیسے آندھی میں کوئی دیپ جلا جاتا ہے
آنکھ اٹھتی ہے کئی بار فلک کی جانب
اور دھرتی کی طرف دستِ دعا جاتا ہے
میں وہ نغمہ ہوں بڑے شوق سے جو شام ڈھلے
گاؤں کے کچے مکانوں میں سنا جاتا ہے
عاجز کمال
No comments:
Post a Comment