برسوں میں کہاں قید رہا پوچھ کے دیکھوں
کس نے مجھے آزاد کیا پوچھ کے دیکھوں
دُہرائی گئی کب مِرے پیچھے وہ کہانی
تھا کون جو عُنوان بنا پوچھ کے دیکھوں
سمجھا تھا کہ تنہا ہوں مگر ساتھ تھا کوئی
ہمراہ مِرے کون رہا پوچھ کے دیکھوں؟
ایسا جو تِرے نام سے پہچان لے مجھ کو
کیا شہر میں کوئی نہ رہا پوچھ کے دیکھوں
کیوں دیتے ہیں سُولی مِرے ہمزاد کو یہ لوگ
کیا اس نے بھی سچ بول دیا پوچھ کے دیکھوں
انگارے اٹھا لائے تھے جو پھول سمجھ کر
ان لوگوں کا کیا حال ہوا پوچھ کے دیکھوں
گمراہ کیا ہے مجھے اس شخص نے ہر بار
اب خود سے ذرا اپنا پتہ پوچھ کے دیکھوں
محمد احمد نقوی
No comments:
Post a Comment