Saturday, 5 September 2020

کٹیں گے روگ کیسے اب یہ سوچو

کٹیں گے روگ کیسے اب یہ سوچو
بسیں گے لوگ کیسے اب یہ سوچو 
جو اس سیل بلا میں بہہ گئی ہیں 
وہ لاشیں بہتے بہتے کہہ گئی ہیں
بچو گے تم بھی کیسے اب یہ سوچو
بنا لو ڈیم، نسلوں کو بچا لو
جو باقی بچ گیا ہے وہ سنبھالو
نہیں پہلے یہ سوچا اب یہ سوچو 
ازالہ کیسے ہو گا اب یہ سوچو
جو کہتا ہے اسے بننے سے روکو
اسی صوبے کو کالا باغ دے دو
وہ ٹھیکے پر اسے خود ہی بنائے
کمائی ڈیم کی بھی خوب کھائے
بنے یہ جیسے تیسے‘ اب یہ سوچو
کہاں سے آئیں پیسے اب یہ سوچو
چلو اک بار پھر سے پیٹ کاٹیں
یہ ساری مشکلیں آپس میں بانٹیں
یہ سیدھی بات سمجھائیں سبھی کو
نہ جو سمجھے اسے سب مل کے ڈانٹیں
مسائل حل ہوں کیسے اب یہ سوچو
نہ پھر جل تھل ہوں ایسے اب یہ سوچو
پھر آئے بن کے رحمت ابر باراں
منائے قوم پھر جشن بہاراں

ریاض الرحمٰن ساغر

No comments:

Post a Comment