کٹیں گے روگ کیسے اب یہ سوچو
بسیں گے لوگ کیسے اب یہ سوچو
جو اس سیل بلا میں بہہ گئی ہیں
وہ لاشیں بہتے بہتے کہہ گئی ہیں
بچو گے تم بھی کیسے اب یہ سوچو
بنا لو ڈیم، نسلوں کو بچا لو
نہیں پہلے یہ سوچا اب یہ سوچو
ازالہ کیسے ہو گا اب یہ سوچو
جو کہتا ہے اسے بننے سے روکو
اسی صوبے کو کالا باغ دے دو
وہ ٹھیکے پر اسے خود ہی بنائے
کمائی ڈیم کی بھی خوب کھائے
بنے یہ جیسے تیسے‘ اب یہ سوچو
کہاں سے آئیں پیسے اب یہ سوچو
چلو اک بار پھر سے پیٹ کاٹیں
یہ ساری مشکلیں آپس میں بانٹیں
یہ سیدھی بات سمجھائیں سبھی کو
نہ جو سمجھے اسے سب مل کے ڈانٹیں
مسائل حل ہوں کیسے اب یہ سوچو
نہ پھر جل تھل ہوں ایسے اب یہ سوچو
پھر آئے بن کے رحمت ابر باراں
منائے قوم پھر جشن بہاراں
ریاض الرحمٰن ساغر
No comments:
Post a Comment