حکمراں عید پہ یہ قوم سے پیمان کریں
عید کے بعد بدل جائیں گے، اعلان کریں
عام لوگوں سے گلے مل کے مٹا دیں وہ گِلے
ہو یقیں ان کو کہ قربانی کے پائیں گے صلے
تاکہ ہر گھر میں بچا جو ہے وہ قربان کریں
جن کا ہے عزم، تغافل نہ کریں گے لیکن
کریں گے کام وہ، سورج نہ چڑھے گا جس دن
ان کی مجبوری ہے تنخواہیں وہ پوری لیں گے
لینی پڑتی ہیں مراعات ضروری، لیں گے
قرض چڑھتا ہے چڑھے قوم کے سر، ان کو کیا
پانچ سالوں میں انہیں بھرنا ہے گھر، ان کو کیا
پھر یہ جمہوری حکومت جو چلی جائے گی
فوج مہنگائی سے لڑنے کے لیے آئے گی
بھاگ کر فوجی حکومت سے وزارت لیں گے
یورپی ملک میں یا کوئی سفارت لیں گے
عید اب کے بھی غریبوں کے نہ گھر آئے گی
اس کی یاری ہے امیروں سے، وہاں جائے گی
حکمراں جاتے ہوئے ایک تو احسان کریں
پھر نہ آئیں گے کبھی لوٹ کے اعلان کریں
عید کے روز کریں دل سے تہیہ یہ عوام
حکمراں پھر نہ وہ لائیں گے ہوئے جو ناکام
ہے یقیں مجھ کو غریبوں کی بھی عید آئے گی
کوئی تبدیلی یہاں قابلِ دید آئے گی
ریاض الرحمٰن ساغر
No comments:
Post a Comment