پھر ہجر و فراق کی گھڑی ہے
عمرِ غمِ آرزو بڑی ہے
پلکوں پہ مچل رہے ہیں انجم
کس چاند سے آنکھ جا لڑی ہے
آ جاؤ کہ ایک بار ہنس لیں
"رونے کو تو زندگی پڑی ہے"
یہ ظلمتِ شب، یہ جوشِ گریہ
برسات کی رات کی جھڑی ہے
جنگل پہ لپک رہے ہیں شعلے
طاؤس کو رقص کی پڑی ہے
نیر کو سلامِ غم مبارک
منزل مگر عشق کی کڑی ہے
نیر واسطی
No comments:
Post a Comment