بس اپنی ذات کے پل پل میں پھنس گیا کیسے
میں خواہشات کے جنگل میں پھنس گیا کیسے
مرے قلم کو تو لکھنے تھے قتل کے اسباب
مرا قلم ترے کاجل میں پھنس گیا کیسے
تجھے میں چھوڑ کے آیا تھا نیک لوگوں میں
تُو اس گناہ کی دلدل میں پھنس گیا کیسے
بہت سکون سے رہتا تھا گاؤں میں جو شخص
وہ آج شہر کی ہلچل میں پھنس گیا کیسے
یہ راز اہلِ خرد کیسے تم پہ فاش کریں
جنونِ عشق تھا مقتل میں پھنس گیا کیسے
مصداق اعظمی
No comments:
Post a Comment