Wednesday, 16 December 2020

بس اپنی ذات کے پل پل میں پھنس گیا کیسے

 بس اپنی ذات کے پل پل میں پھنس گیا کیسے

میں خواہشات کے جنگل میں پھنس گیا کیسے

مرے قلم کو تو لکھنے تھے قتل کے اسباب

مرا قلم ترے کاجل میں پھنس گیا کیسے

تجھے میں چھوڑ کے آیا تھا نیک لوگوں میں

تُو اس گناہ کی دلدل میں پھنس گیا کیسے

بہت سکون سے رہتا تھا گاؤں میں جو شخص

وہ آج شہر کی ہلچل میں پھنس گیا کیسے

یہ راز اہلِ خرد کیسے تم پہ فاش کریں

جنونِ عشق تھا مقتل میں پھنس گیا کیسے


مصداق اعظمی

No comments:

Post a Comment