گر زندگی ٹھہر جائے
مجھے تم سے کچھ کہنا ہے
مجھے خود سے بات کرنی ہے
چند خواب اور خیالوں کو
آزاد کرنا ہے
مجھ سے روحیں فریاد کرتی ہیں
مجھے ان کے جسموں کو
پانی پلانا ہے
مجھے خود کو
خشکی سے سمندر میں
لے جا کر سکھانا ہے
اس آباد شہر میں
لوگوں سے بہت دور
ایک آواز آتی ہے
جو مجھ سے کہتی ہے
گر زندگی ٹھہر جائے
مجھے تم سے کچھ کہنا ہے
علی سعید
No comments:
Post a Comment