Wednesday, 16 December 2020

مجھے تم سے کچھ کہنا ہے

 گر زندگی ٹھہر جائے

مجھے تم سے کچھ کہنا ہے

مجھے خود سے بات کرنی ہے

چند خواب اور خیالوں کو

آزاد کرنا ہے

مجھ سے روحیں فریاد کرتی ہیں

مجھے ان کے جسموں کو

پانی پلانا ہے

مجھے خود کو

خشکی سے سمندر میں

لے جا کر سکھانا ہے

اس آباد شہر میں

لوگوں سے بہت دور

ایک آواز آتی ہے

جو مجھ سے کہتی ہے

گر زندگی ٹھہر جائے

مجھے تم سے کچھ کہنا ہے  


علی سعید

No comments:

Post a Comment