ہجر کے دشت میں ہیں یاد کے سائے ہائے
دل کی دہلیز پہ تُو بھی کبھی آئے ہائے
رات ظلمت کی گھنیری ہے سو لازم سب پر
اپنے حصے کا دِیا 🪔 ایک جلائے ہائے
گردشِ دوراں سے کچھ وقت نکالو کہ رکھیں
اک ملاقات تُو، میں اور ہو چائے ہائے
تھا اضافی مِرا ہر لفظ میں کیا کہتی پھر
فیصلہ کر کے مِری مانگی تھی رائے ہائے
میں کفن ساتھ لیے ہوں سرِ مقتل آئی
سر مِرا دار تلک کوئی لے جائے ہائے
ایک وحشت سی ہے برپا مری رگ رگ میں اب
اور اس پر دلِ مضطر کی یہ ہائے ہائے
تیرگی بخت سے میرے نہ جا پائی ارفع
مانگ میں چاند ستارے بھی سجائے ہائے
ارفع کنول
No comments:
Post a Comment