حساسیت
میں زندہ ہوں
لیکن مجھے سانس لینے کی فرصت نہیں ہے
نظامِ تنفس کے سب قاعدوں میں
بھلے ہی خلل ہے نہ خامی کوئی ہے
مگر بند پنجرے کی آہنی سلاخوں میں
جکڑا ہوا یہ بظاہر تنومند دِکھتا بدن بھی
نئے موسموں کی ہواؤں، صداؤں
بہاروں، امیدوں سے نا آشنا ہے
ازل سے حقیقت کے اور اپنے دل میں
مچلتے ہوئے خواب ہوتے ہوئے
خواب کے درمیاں یوں
اُلجھتی رہی ہوں
کہ زندہ بھی ہوں
پر میں ہر بیتتے پل میں مرتی رہی ہوں
نگین خالد
No comments:
Post a Comment