Sunday, 6 March 2022

حساسیت میں زندہ ہوں لیکن مجھے سانس

حساسیت


میں زندہ ہوں 

لیکن مجھے سانس لینے کی فرصت نہیں ہے

نظامِ تنفس کے سب قاعدوں میں

بھلے ہی خلل ہے نہ خامی کوئی ہے

مگر بند پنجرے کی آہنی سلاخوں میں

جکڑا ہوا یہ بظاہر تنومند دِکھتا بدن بھی

نئے موسموں کی ہواؤں، صداؤں

بہاروں، امیدوں سے نا آشنا ہے

ازل سے حقیقت کے اور اپنے دل میں

مچلتے ہوئے خواب ہوتے ہوئے 

خواب کے درمیاں یوں

اُلجھتی رہی ہوں

کہ زندہ بھی ہوں 

پر میں ہر بیتتے پل میں مرتی رہی ہوں


نگین خالد

No comments:

Post a Comment