گھڑی کی سوئی سمے کے سفر میں رہ گئی تھی
ہماری شام کسی دوپہر میں رہ گئی تھی
ازل سے میری تراش و خراش کر رہا ہے
کوئی کمی تھی جو اس کی نظر میں رہ گئی تھی
تِری تلاش میں کچھ لوگ خاک ہو گئے تھے
اور ان کی خاک تِری رہگزر میں رہ گئی تھی
مِری طرف سے نہ دل صاف ہو سکا اس کا
جو بات بیج میں تھی وہ شجر میں رہ گئی تھی
ہم اپنے گھر میں تھے اور پھر بھی مارے جا رہے تھے
ہماری زندگی ان دیکھے ڈر میں رہ گئی تھی
کوئی بھی غم مِری بنیاد تک نہیں پہنچا
مِری شکستگی دیوار و در میں رہ گئی تھی
اگرچہ ہم تو کسی کی نگاہ میں نہ رہے
ہماری شاعری اہلِ نظر میں رہ گئی تھی
حمزہ یعقوب
No comments:
Post a Comment