شروع ہونے کا مطلب ہی اختتام نہ ہو
مِری شکست کہیں تجھ سے انتقام نہ ہو
انا زیادہ ضروری ہے سانس کی نسبت
سپاہی مرتا ہے مر جائے، پر غلام نہ ہو
مجھے تو دل نے عجب وسوسوں میں ڈال دیا
شکست و ریخت کسی طرز کا کلام نہ ہو
شناخت سب سے بڑا نفسیاتی مسئلہ ہے
میں چاہتا ہوں کسی شے کا کوئی نام نہ ہو
ابھی تلک وہ مِری آنکھ سے نہیں نکلا
نئے شکاری کی جنگل میں پہلی شام نہ ہو
ہمیشہ ٹھہری ہوئی شے نشانہ بنتی ہے
خیال رکھنا کہ رہ میں کہیں قیام نہ ہو
سگِ زمانہ سلیقے سے عاری ہے حمزہ
سخنوری کسی درویش کا ہی کام نہ ہو
حمزہ یعقوب
No comments:
Post a Comment