Wednesday, 9 March 2022

مرے سکوں سے جڑا ہے بہت پرانا ہے

 مِرے سکوں سے جڑا ہے، بہت پرانا ہے

جو خواب رات دکھا ہے، بہت پرانا ہے

جہاں پہ سوکھا ہوا پیڑ گرنے والا ہے

وہاں خزانہ چھپا ہے، بہت پرانا ہے

اداس چہرہ چمکنے میں عمر لگتی ہے

فلک جو تاروں بھرا ہے، بہت پرانا ہے

غمِ معاش کے طعنے نہ دے مجھے مِرے دوست

یہ غم تو جھیلا ہوا ہے، بہت پرانا ہے

وہ راستہ جو گزرتا ہے کہکشاؤں کے بیچ

تمہیں ہی آج ملا ہے، بہت پرانا ہے


حمزہ یعقوب

No comments:

Post a Comment