ہمارے ہاتھ میں تلوار تو نہیں دے گی
یہ شاعری ہے کوئی مار تو نہیں دے گی
اسے کہو مجھے تم سے بہت محبت ہے
اب اتنی بات پہ وہ مار تو نہیں دے گی
غلام خوش ہے کہ شہزادی نے بلایا ہے
کرے گی حکم اسے پیار تو نہیں دے گی
ہماری شرط ہے یہ، جیتنا ہے دل سے تمھیں
ہماری شرط ہمیں ہار تو نہیں دے گی
مجھے ہیں پوچھتے نوواردانِ دشتِ عشق
یہ راہِ قیس ہمیں خار تو نہیں دے گی
یہ کامیابی ہے منزل بلند و پستی کی
ہمیں یہ راستہ ہموار تو نہیں دے گی
وہ بدتمیز ہے تھپڑ رسید کرتی ہے
تمھارے بوسے کو رخسار تو نہیں دے گی
کاشف ظریف
No comments:
Post a Comment