Wednesday, 9 March 2022

ہمارے ہاتھ میں تلوار تو نہیں دے گی

 ہمارے ہاتھ میں تلوار تو نہیں دے گی

یہ شاعری ہے کوئی مار تو نہیں دے گی 

اسے کہو مجھے تم سے بہت محبت ہے

اب اتنی بات پہ وہ مار تو نہیں دے گی

غلام خوش ہے کہ شہزادی نے بلایا ہے

کرے گی حکم اسے پیار تو نہیں دے گی

ہماری شرط ہے یہ، جیتنا ہے دل سے تمھیں

ہماری شرط ہمیں ہار تو نہیں دے گی

مجھے ہیں پوچھتے نوواردانِ دشتِ عشق

یہ راہِ قیس ہمیں خار تو نہیں دے گی

یہ کامیابی ہے منزل بلند و پستی کی

ہمیں یہ راستہ ہموار تو نہیں دے گی

وہ بدتمیز ہے تھپڑ رسید کرتی ہے 

تمھارے بوسے کو رخسار تو نہیں دے گی


کاشف ظریف

No comments:

Post a Comment