وہی ہے ریت پانی بھی وہی ہے
سمندر کی روانی بھی وہی ہے
وہی ناکامئ حسرت کا رونا
عبث کی کامرانی بھی وہی ہے
وہی دستور جنگل ہے یہاں پر
نظام حکمرانی بھی وہی ہے
پرانی ہے تِری آنکھوں کی مستی
مِری آنکھوں کا پانی بھی وہی ہے
وہی چہرے کی رنگت ہے اڑی سی
چھلکتی شادمانی بھی وہی ہے
وہی ہیں مرحلے دار و رسن کے
ہماری جانفشانی بھی وہی ہے
وہی ہے موت کا قصہ پرانا
صلیبِ زندگانی بھی وہی ہے
زمانے کے فسانے ہیں پرانے
غزالی کی کہانی بھی وہی ہے
امجد کلیم غزالی
No comments:
Post a Comment