Wednesday, 9 March 2022

وہی ہے ریت پانی بھی وہی ہے

 وہی ہے ریت پانی بھی وہی ہے

سمندر کی روانی بھی وہی ہے

وہی ناکامئ حسرت کا رونا

عبث کی کامرانی بھی وہی ہے

وہی دستور جنگل ہے یہاں پر

نظام حکمرانی بھی وہی ہے

پرانی ہے تِری آنکھوں کی مستی

مِری آنکھوں کا پانی بھی وہی ہے

وہی چہرے کی رنگت ہے اڑی سی

چھلکتی شادمانی بھی وہی ہے

وہی ہیں مرحلے دار و رسن کے

ہماری جانفشانی بھی وہی ہے

وہی ہے موت کا قصہ پرانا

صلیبِ زندگانی بھی وہی ہے

زمانے کے فسانے ہیں پرانے

غزالی کی کہانی بھی وہی ہے


امجد کلیم غزالی

No comments:

Post a Comment