کناروں سے رہائی چاہتا ہے
سمندر خود نمائی چاہتا ہے
فرات وقت کی خواہش یہی ہے
یہ موسم کربلائی چاہتا ہے
یہ دستک بے صدا کیسے ہوئی ہے
ہر اک لمحہ دھائی چاہتا ہے
میں اپنا خواب، گھر تقسیم کر لوں
یہی اب میرا بھائی چاہتا ہے
اڑا کر خاک دشت آرزو میں
جنوں کیسی کمائی چاہتا ہے
پرندہ بال و پر اپنے گنوا کر
ہوا سے آشنائی چاہتا ہے
فنا کا ہاتھ خواب زندگی کے
کواڑوں تک رسائی چاہتا ہے
طاہر حنفی
No comments:
Post a Comment