Wednesday, 9 March 2022

کناروں سے رہائی چاہتا ہے

 کناروں سے رہائی چاہتا ہے

سمندر خود نمائی چاہتا ہے

فرات وقت کی خواہش یہی ہے

یہ موسم کربلائی چاہتا ہے

یہ دستک بے صدا کیسے ہوئی ہے

ہر اک لمحہ دھائی چاہتا ہے

میں اپنا خواب، گھر تقسیم کر لوں

یہی اب میرا بھائی چاہتا ہے

اڑا کر خاک دشت آرزو میں

جنوں کیسی کمائی چاہتا ہے

پرندہ بال و پر اپنے گنوا کر

ہوا سے آشنائی چاہتا ہے

فنا کا ہاتھ خواب زندگی کے

کواڑوں تک رسائی چاہتا ہے


طاہر حنفی

No comments:

Post a Comment