دے بڑے شوق سے سزا مجھ کو
پر مِرا جرم تو بتا مجھ کو
روک تو لوں تجھے مگر کیا ہے
روکتی یے مِری انا مجھ کو
مر سکوں گی نا جی سکوں گی میں
ایسے مت چھوڑ کے تو جا مجھ کو
ایسے چپ چاپ چھوڑ جانے سے
لوگ سمجھیں گے بے وفا مجھ کو
اپنے ہاتھوں سے خود گنوایا تھا
اب پلٹ کے نہ دے صدا مجھ کو
بِن تِرے خوش رہوں نہ دے ایسی
تُو دعا سی یہ بد دعا مجھ کو
جان ارفع! تِری امانت پر
ایسےسُولی تو مت چڑھا مجھ کو
ارفع کنول
No comments:
Post a Comment