Wednesday, 9 March 2022

ترے عارض سے ترے پاؤں تلک ہوتا ہے

 تِرے عارض سے تِرے پاؤں تلک ہوتا ہے

کب فقط کانِ نمک میں ہی نمک ہوتا ہے 

تِرے لب چوم کے منہ شہد سے بھر جاتا ہے

ایسا شیرین کہاں گٗڑ کا گجک ہوتا ہے

ہو نہ ہو پھر تجھے کچھ کام پڑا ہے مجھ سے 

تُو مجھے پیار سے دیکھے تو یہ شک ہوتا ہے

مِرے اس شہر کے ڈھابوں میں ہے درمانِ جہاں

وہی چائے کا پیالہ جو کڑک ہوتا ہے

نقش ہے چہرہ تِرا دل پہ مِرے یوں شہ زاد

جیسے ماتھے پہ سہاگن کے تلک ہوتا ہے


حسین شاہ زاد

No comments:

Post a Comment