Saturday, 3 June 2023

مجھے آواز دو میں پتھر ہوتی جا رہی ہوں

 میرے سنسناتے پیروں کا احساس

یہ کہتا ہے

کہ میں سنگ ہوتی جا رہی ہوں

میں نے سوچنا چھوڑا

خود کو تیرے تابع کر دیا

میں نے پڑھنا چھوڑا

کہ تم نے مجھے پڑھنے لگے

میں نے چلنا اور سفر کرنا چھوڑا

کہ تم میرے ہمسفر تھے

اور مجھے لگا

یہ زندگی اصل سفر ہے

میرے احساس کی طنابیں

تمہاری پسلی سے شروع ہو کر

میری پسلیوں میں مقیّد دل پر

ختم ہوتی تھیں

سارے احساس کٹ گئے

جذبے مٹ گئے کہ

میں نے تم کو پا کر آنکھیں

بند کر لیں تھیں

آج اتنے سالوں بعد

ویرانیوں کے صحرا میں

تنہا کھڑی میں سوچوں 

کیا عجب تماشہ تھا

کہ سارے کھیل خود پر بند کر لیے

ایک شخص کی ہو کر

میں نے خود کو

پتھر کر لیا

تم نے میرے مجسمہ کو

گھر کے شوکیس میں سجا کر نکل گئے

پتھر ہوتی میں

اپنی آنکھوں سے اس

قید کو دیکھوں

اور چاہوں کوئی آواز دے

کسی جاوِداں اسم کو پڑھے

کہ پتھر ہوتی میں

جلا پاؤں

اس قید کے شیشے کو توڑوں

باہر نکل آؤں

کہ انکھوں کی روشنی بجھنے سے پہلے

کچھ پل جی سکوں

مجھے آواز دو

میں پتھر ہوتی جا رہی ہوں


مہر افروز

No comments:

Post a Comment