میرے سنسناتے پیروں کا احساس
یہ کہتا ہے
کہ میں سنگ ہوتی جا رہی ہوں
میں نے سوچنا چھوڑا
خود کو تیرے تابع کر دیا
میں نے پڑھنا چھوڑا
کہ تم نے مجھے پڑھنے لگے
میں نے چلنا اور سفر کرنا چھوڑا
کہ تم میرے ہمسفر تھے
اور مجھے لگا
یہ زندگی اصل سفر ہے
میرے احساس کی طنابیں
تمہاری پسلی سے شروع ہو کر
میری پسلیوں میں مقیّد دل پر
ختم ہوتی تھیں
سارے احساس کٹ گئے
جذبے مٹ گئے کہ
میں نے تم کو پا کر آنکھیں
بند کر لیں تھیں
آج اتنے سالوں بعد
ویرانیوں کے صحرا میں
تنہا کھڑی میں سوچوں
کیا عجب تماشہ تھا
کہ سارے کھیل خود پر بند کر لیے
ایک شخص کی ہو کر
میں نے خود کو
پتھر کر لیا
تم نے میرے مجسمہ کو
گھر کے شوکیس میں سجا کر نکل گئے
پتھر ہوتی میں
اپنی آنکھوں سے اس
قید کو دیکھوں
اور چاہوں کوئی آواز دے
کسی جاوِداں اسم کو پڑھے
کہ پتھر ہوتی میں
جلا پاؤں
اس قید کے شیشے کو توڑوں
باہر نکل آؤں
کہ انکھوں کی روشنی بجھنے سے پہلے
کچھ پل جی سکوں
مجھے آواز دو
میں پتھر ہوتی جا رہی ہوں
مہر افروز
No comments:
Post a Comment