Saturday, 3 June 2023

یہ مانا آدمی بے شک ہے مجبور مشیت بھی

مختارِ محبت


یہ مانا آدمی بے شک ہے مجبورِ مشیّت بھی

مگر تم ساتھ بینائی کے کھو بیٹھے بصیرت بھی

تعجب ہے ہوئے جاتے ہو تم مایوس کیوں آخر؟

بھُلا دی تم نے اپنے دل سے کیا میری محبت بھی

محبت امتیازِ کور و دیدہ ور سے بالا ہے

سمجھتے ہو مجھے تم آہ، کیا ننگِ محبت بھی

رہوں گی میں شریکِ حال پیارے رنج و راحت میں

مصیبت آ پڑے تو میں اٹھاؤں گی مصیبت بھی

تمہاری شکل میرے واسطے جیسی ہے اچھی ہے

تم اندھے ہو تو کیا غم ہے محبت خود بھی اندھی ہے


وقار انبالوی

ناظم علی

No comments:

Post a Comment