Thursday, 18 November 2021

تمہارے آستاں سے جس کو نسبت ہوتی جاتی ہے

 تمہارے آستاں سے جس کو نسبت ہوتی جاتی ہے 

اسے حاصل زمانے بھر کی رفعت ہوتی جاتی ہے

کچھ اس انداز سے ان کی عنایت ہوتی جاتی ہے 

تماشہ گاہ عالم میری صورت ہوتی جاتی ہے 

تمہارے حسن کے جلوے نگاہوں میں سمائے ہیں 

ہماری زندگی تصویر حیرت ہوتی جاتی ہے 

تمہاری یاد نے وہ روشنی بخشی ہے اشکوں کو 

کہ ان سے میرے غم خانے کی زینت ہوتی جاتی ہے 

رضائے دوست کی پھر منزلیں آسان ہوتی ہیں 

نظر جب واقف راز مشیت ہوتی جاتی ہے 

وہ جب ساغر پلانا چاہتے ہیں چشم مے گوں سے 

تو پھر ہر ایک پر ان کی عنایت ہوتی جاتی ہے 

میرے ذوقِ تمنا کی حقیقت پوچھتے کیا ہو 

انہیں بھی اب تو کچھ مجھ سے محبت ہوتی جاتی ہے 

میری ہستی ہے آئینہ تیرے رخ کی تجلی کا 

زمانے پر عیاں تیری حقیقت ہوتی جاتی ہے 

اسی کا نام شاید عشق کی معراج ہے صادق

میرے غم کی کہانی وجہ شہرت ہوتی جاتی ہے 


صادق دہلوی

No comments:

Post a Comment