Monday, 9 October 2023

بچھڑ کے ملنے کی کوئی دعا تو دے مجھ کو

 بچھڑ کے ملنے کی کوئی دعا تو دے مجھ کو

ذرا سا جاتے ہوئے حوصلہ تو دے مجھ کو

وہ حبس ہے کہ کہیں سانس ہی نہ گُھٹ جائے

ہلا کے ہاتھ ذرا سی ہوا تو دے مجھ کو

تُو مُسکرائے تو شاید کہ میں سنبھل جاؤں

اے زندگی! تُو کوئی آسرا تو دے مجھ کو

زمیں بتا تُو کہاں تک مجھے گُھمائے گی

میں تیرے ساتھ چلوں راستہ تو دے مجھ کو

قریب آ کہ میں محسوس کر سکوں تجھ کو

تُو میرے ہونے کا کچھ تجربہ تو دے مجھ کو


اشرف کمال

No comments:

Post a Comment