بچھڑ کے ملنے کی کوئی دعا تو دے مجھ کو
ذرا سا جاتے ہوئے حوصلہ تو دے مجھ کو
وہ حبس ہے کہ کہیں سانس ہی نہ گُھٹ جائے
ہلا کے ہاتھ ذرا سی ہوا تو دے مجھ کو
تُو مُسکرائے تو شاید کہ میں سنبھل جاؤں
اے زندگی! تُو کوئی آسرا تو دے مجھ کو
زمیں بتا تُو کہاں تک مجھے گُھمائے گی
میں تیرے ساتھ چلوں راستہ تو دے مجھ کو
قریب آ کہ میں محسوس کر سکوں تجھ کو
تُو میرے ہونے کا کچھ تجربہ تو دے مجھ کو
اشرف کمال
No comments:
Post a Comment