🪔ایسے ہوتے ہیں سرِ شام نمودار چراغ
جیسے ڈھلتے ہوئے سورج کے عزادار چراغ
ایک ہی آگ میں جلتے ہیں یہاں ہم دونوں
🪔میرا کردار پتنگا ترا کردار چراغ
کربلا اور بھلا کس کو یہاں کہتے ہیں
نوکِ نیزہ پہ ہے سر اور سرِ دار چراغ
کب کہاں کیسے پرکھنا ہے کسی کو ہم نے
یوں بھی حالات سے رہتے ہیں خبردار چراغ
روشنی ڈھونڈھنے سب لوگ وہاں جاتے ہیں
یعنی اس پار اندھیرا ہے تو اس پار چراغ
خود ہی آندھی کی عنایت پہ انہیں چھوڑ دیا
اس پہ پھر یہ بھی تماشہ ہے کہ بے کار چراغ
آرب ہاشمی
No comments:
Post a Comment