مجھ کو آئے گا کسی روز منانے والا
اتنا ظالم تو نہیں روٹھ کے جانے والا
آج کے دور میں امیدِ وفا کس سے رکھیں
دھوپ میں بیٹھا ہے خود پیڑ لگانے والا
اس پر بربادی کا الزام لگائیں کیسے
برف کے شہر میں رہتا ہے جلانے والا
دانے دانے کو وہ محتاج نظر آتا ہے
تھا جو ہاتھوں کی لکیریں بتانے والا
کربلا کی ہمیں تاریخ بتاتی ہے یہی
خود ہی مٹ جائے گا اک روز مٹانے والا
جشن پھر بادِ بہاراں منا لوں گی صبا
لوٹ کے آئے ذرا گاؤں سے جانے والا
شانتی صبا
No comments:
Post a Comment