Thursday, 10 December 2020

ہم تجھے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں

 ہم تجھے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں

جس طرح راستے پھر رہے ہیں

اس طرف دنیا ہے گاڑی موڑو

اس طرف حادثے پھر رہے ہیں

بھول جاتے ہیں وہ بات کہہ کر

ہم یہاں سوچتے پھر رہے ہیں

میں ریاضی نہیں جانتا ہوں

اور یہاں مسئلے پھر رہے ہیں

میری دنیا سے کوسوں پرے ہیں

جو مجھے کوستے پھر رہے ہیں

یہ پتہ اس جہاں کا نہیں ہے

آپ کیوں پوچھتے پھر رہے ہیں

تیرا ان سے کوئی واسطہ ہے

جو ترے واسطے پھر رہے ہیں

سخت مشکل کا اب سامنا ہے

وہ مرے سامنے پھر رہے ہیں


عدنان نصیر

No comments:

Post a Comment