ہم تجھے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں
جس طرح راستے پھر رہے ہیں
اس طرف دنیا ہے گاڑی موڑو
اس طرف حادثے پھر رہے ہیں
بھول جاتے ہیں وہ بات کہہ کر
ہم یہاں سوچتے پھر رہے ہیں
میں ریاضی نہیں جانتا ہوں
اور یہاں مسئلے پھر رہے ہیں
میری دنیا سے کوسوں پرے ہیں
جو مجھے کوستے پھر رہے ہیں
یہ پتہ اس جہاں کا نہیں ہے
آپ کیوں پوچھتے پھر رہے ہیں
تیرا ان سے کوئی واسطہ ہے
جو ترے واسطے پھر رہے ہیں
سخت مشکل کا اب سامنا ہے
وہ مرے سامنے پھر رہے ہیں
عدنان نصیر
No comments:
Post a Comment