Thursday, 10 December 2020

جب میں بوڑھی ہو جاؤں گی

 جب میں بوڑھی ہو جاؤں گی

اگر جیتی رہی

اور ساٹھ کا ہندسہ عبور کر لوں گی

تو ایسی فیس ایپ جیسی

میک اپ زدہ بوڑھی نہ ہوں گی

میں اپنے اس کالے فریم کی عینک کی جگہ

نیا چشمہ بنواؤں گی

سنہرے فریم کا

اور میں بالوں کو نہ رنگوں گی

جانتی ہوں سفید بال

میرے دمکتے چہرے پر

اسی طرح جچ اٹھیں گے

جیسے ہار سنگھار کی پتیاں

کتھئی ٹنڈی پر کھل اٹھتی ہیں

میرے چہرے کی جھُریوں میں

وقت کے اتار چڑھاؤ

تمغوں کی مانند سجے ہوں گے

اور میں ہاتھ میں کتاب تھامے

مطالعہ کرتی

کسی آرام دہ کرسی پر

بیٹھی

باہر بھیگنے کی بجائے

بارش کا نظارہ کروں گی

اور میری آنکھوں میں

چمک ہو گی

اپنے بچوں کی جوانی کی

اپنے بیٹوں کی چوڑی چھاتی اور لامبے قد

اور بیٹی کا ذرا سا موٹاپا

دیکھنا

کتنا خوبصورت لگے گا


سبین علی

No comments:

Post a Comment