Thursday, 10 December 2020

نس نس میں جیسے پیار کی ترسیل ہوئی

 آمنے سامنے بیٹھ تھے سرد راتوں میں

بس اسی وقت محبت کی تشکیل ہوئی

رات کے خمار میں کشتی اور لہروں کا شور

پیار کی اس کہانی کی گواہ وہ جھیل ہوئی

اسے لگتا تھا کہ اتنے پیارے موسم میں

جو چاہا ہم نے ان لمحوں میں تعمیل ہوئی

جب دیکھا تھا اس نے میرا پکڑ کر ہاتھ

چاند نے دیکھا روشن اک قندیل ہوئی

یاتھوں کو لے کے ہاتھ میں وہ بات کہہ گئے

نس نس میں جیسے پیار کی ترسیل ہوئی

آنکھوں سے التجا تھی للہ ایسے نہ دیکھئے

انکی ہر اک شرارت پھر پیار میں تجلیل ہوئی


راحیلہ بیگ چغتائی

No comments:

Post a Comment