آمنے سامنے بیٹھ تھے سرد راتوں میں
بس اسی وقت محبت کی تشکیل ہوئی
رات کے خمار میں کشتی اور لہروں کا شور
پیار کی اس کہانی کی گواہ وہ جھیل ہوئی
اسے لگتا تھا کہ اتنے پیارے موسم میں
جو چاہا ہم نے ان لمحوں میں تعمیل ہوئی
جب دیکھا تھا اس نے میرا پکڑ کر ہاتھ
چاند نے دیکھا روشن اک قندیل ہوئی
یاتھوں کو لے کے ہاتھ میں وہ بات کہہ گئے
نس نس میں جیسے پیار کی ترسیل ہوئی
آنکھوں سے التجا تھی للہ ایسے نہ دیکھئے
انکی ہر اک شرارت پھر پیار میں تجلیل ہوئی
راحیلہ بیگ چغتائی
No comments:
Post a Comment