ہنسی خوشی نیا غم دان کر دیا ہے مجھے
پر اس نے یہ بھی تو کچھ جان کر دیا ہے مجھے
نہ پھیر مجھ سے تو اپنی اداس آنکھوں کو
خدا نے ان کا نگہبان کر دیا ہے مجھے
یہ روح ووح کی باتیں بھی ہونگی سچ لیکن
ترے بدن نے پریشان کر دیا ہے مجھے
یہی تو دکھ ہے ستم گر ترے رویے نے
دکھی نہیں کیا، حیران کر دیا ہے مجھے
کسی کو روپ میں بھگوان کے نظر آیا
کسی کی آنکھ نے رحمان کر دیا ہے مجھے
حذیفہ ہارون
No comments:
Post a Comment