Thursday, 10 December 2020

اس قدر تلخیاں ہیں جیون میں

تلخیاں


 ہیں جدائی سے پہلے کی باتیں

شوخ تھا اور وہ ہنستا رہتا تھا

کافی اس کو کسیلی لگتی تھی

چائے پیتا مٹھاس کی خاطر

اب ملا مجھ کو وہ زمانے بعد

پہلی سی تھی نہ اس میں کوئی پھبن

اور نخرہ نہیں تھا پہلا سا

میں نے پوچھا تھا اس سے حالِ دل

اس کی باتوں میں خود کو کھوجا اور

باتیں کرتی رہی تھی بے معنی

کیسے رہتے رہے ہو میرے بِن؟

چائے پیتے ہو میٹھے کی خاطر؟

اب بھی کافی کسیلی لگتی ہے ؟

ہنس کے بولا جی چھوڑو جانے دو

اب تو شوگر ہی ساتھ رہتی ہے

اس قدر تلخیاں ہیں جیون میں

اب تو کافی بھی میٹھی لگتی ہے


دلشاد نسیم

No comments:

Post a Comment