تلخیاں
ہیں جدائی سے پہلے کی باتیں
شوخ تھا اور وہ ہنستا رہتا تھا
کافی اس کو کسیلی لگتی تھی
چائے پیتا مٹھاس کی خاطر
اب ملا مجھ کو وہ زمانے بعد
پہلی سی تھی نہ اس میں کوئی پھبن
اور نخرہ نہیں تھا پہلا سا
میں نے پوچھا تھا اس سے حالِ دل
اس کی باتوں میں خود کو کھوجا اور
باتیں کرتی رہی تھی بے معنی
کیسے رہتے رہے ہو میرے بِن؟
چائے پیتے ہو میٹھے کی خاطر؟
اب بھی کافی کسیلی لگتی ہے ؟
ہنس کے بولا جی چھوڑو جانے دو
اب تو شوگر ہی ساتھ رہتی ہے
اس قدر تلخیاں ہیں جیون میں
اب تو کافی بھی میٹھی لگتی ہے
دلشاد نسیم
No comments:
Post a Comment