اے پرندے کیا تُو گاتا ہے؟
ان پیڑوں پر
جن کے سایوں تلے
ہم سوتے تھے
ان پُلوں پر
جہاں ہم مسافر گھنٹیوں کی آوازیں سنتے تھے
اے ہوا کیا تُو چلتی ہے
ان گھروں پہ
جہاں ہم کبھی رہتے تھے
ان دروازوں پہ
جہاں وہ دستک دیتی تھی
اے روشنی کیا تُو چمکتی ہے
ان دیواروں پر
جہاں ہم نے ترکش لٹکائِے تھے
ان طاقوں پر
جہاں ہم اپنے خوابوں کے
خریطے بھول آئے تھے
اور ان راہداریوں پر
جہاں ہم نے ایک دوست ستارے کو
آخری پیار کیے تھے
تبسم کاشمیری
No comments:
Post a Comment