بظاہر زیست سے شکوہ نہیں ہے
ہے سب اچھا مگر، اچھا نہیں ہے
میں کیسی بستیوں میں آ گیا ہوں
یہاں دیواریں ہیں، سایہ نہیں ہے
فقط گھنٹی سے ہی پہچانتا ہوں
تِرا ہے فون یا تیرا نہیں ہے
زمین و آسماں دُھندلے پڑے ہیں
یہ آنسو آنکھ سے گِرتا نہیں ہے
یہ سچ ہے میرا برتاؤ ہے بدلا
مگر تُو بھی تو پہلے سا نہیں ہے
جو سوچا رات بھر تجھ کو، لگا یہ
مِرا چہرہ تھا جو، میرا نہیں ہے
پروفیسر جاوید اقبال
No comments:
Post a Comment