عجب طرح کا ہے آج اضطراب مجھے
کہ زندگی نظر آتی ہے اک عذاب مجھے
دکھا رہے ہیں جو وہ حسنِ بے حجاب مجھے
بنا رہے ہیں وہ ذرے سے آفتاب مجھے
چمن میں دیکھی ہے پھولوں کی خوب جلوہ گری
ملا نہ حسن کا تیرے کہیں جواب مجھے
دعائے وصل کے بعد اب یہ خوف ہے مجھ کو
کہ جذبِ دل کہیں کر دے نہ کامیاب مجھے
وہ ابتدائے محبت میں شوق کی تاثیر
کہ ہر ستم میں تھا اک لطفِ بے حساب مجھے
میں کارگاہِ فنا میں وہ تشنہ لب ہو جلیل
تمام عالمِ ہستی ہے اک سراب مجھے
جلیل قدوائی
No comments:
Post a Comment