Monday, 22 March 2021

رات کے معدے میں کاری زہر ہے جلتا ہے جس سے تن بدن میرا

 ندامت ہی ندامت


رات کے معدے میں کاری زہر ہے جلتا ہے جس سے تن بدن میرا

میں کب سے چیختا ہوں درد سے چِلاتا پھرتا ہوں

تشدد، خوف، دہشت، بربریت

اور مغلظ رات کی رانوں میں شہوت

ایک کالا پھول بنتی ہے

شہوت جاگتی ہے، گھورتی ہے سرخ آنکھوں سے

وہ چہرے نوچتی کھاتی ہے اپنے تند جبڑوں سے

یہ کیسا زہر ہے، جو پھیلتا جاتا ہے معدے میں

یہ کاری زہر ہے جو رات کے معدے سے ٹپکا ہے

تشدد، خوف، دہشت، بربریت

رات کے کالے ستمگر سیاہ ماتھے پر

ندامت ہی ندامت ہے


تبسم کاشمیری

No comments:

Post a Comment