ندامت ہی ندامت
رات کے معدے میں کاری زہر ہے جلتا ہے جس سے تن بدن میرا
میں کب سے چیختا ہوں درد سے چِلاتا پھرتا ہوں
تشدد، خوف، دہشت، بربریت
اور مغلظ رات کی رانوں میں شہوت
ایک کالا پھول بنتی ہے
شہوت جاگتی ہے، گھورتی ہے سرخ آنکھوں سے
وہ چہرے نوچتی کھاتی ہے اپنے تند جبڑوں سے
یہ کیسا زہر ہے، جو پھیلتا جاتا ہے معدے میں
یہ کاری زہر ہے جو رات کے معدے سے ٹپکا ہے
تشدد، خوف، دہشت، بربریت
رات کے کالے ستمگر سیاہ ماتھے پر
ندامت ہی ندامت ہے
تبسم کاشمیری
No comments:
Post a Comment