زمیں پہ پھول نہ پتہ دکھائی دیتا ہے
جدھر بھی جاؤں میں صحرا دکھائی دیتا ہے
فقط نہیں ہوں میں تنہا اداس بستی میں
میں جس کو دیکھوں وہ تنہا دکھائی دیتا ہے
یہ شہر کیسا ہے جس میں کہ ریت اُگتی ہے
یہاں پہ پھول، نہ پتہ دکھائی دیتا ہے
چلے چلو کہ ابھی دور اپنی منزل ہے
ابھی تو شام ہے، رستہ دکھائی دیتا ہے
ابھی فُرات پہ ابنِ زیاد اُترا ہے
ابھی یزید کا دستہ دکھائی دیتا ہے
عجب زماں ہے کہ ہر شخص ٹوٹا پھرتا ہے
میں جس سے ملتا ہوں خستہ دکھائی دیتا ہے
ابھی چراغ سا جلتا ہے چلمنوں کے ادھر
ابھی وہ جاگتا پھرتا دکھائی دیتا ہے
تبسم کاشمیری
No comments:
Post a Comment