Thursday, 25 March 2021

زمیں پہ پھول نہ پتہ دکھائی دیتا ہے

 زمیں پہ پھول نہ پتہ دکھائی دیتا ہے

جدھر بھی جاؤں میں صحرا دکھائی دیتا ہے

فقط نہیں ہوں میں تنہا اداس بستی میں

میں جس کو دیکھوں وہ تنہا دکھائی دیتا ہے

یہ شہر کیسا ہے جس میں کہ ریت اُگتی ہے

یہاں پہ پھول، نہ پتہ دکھائی دیتا ہے

چلے چلو کہ ابھی دور اپنی منزل ہے

ابھی تو شام ہے، رستہ دکھائی دیتا ہے

ابھی فُرات پہ ابنِ زیاد اُترا ہے

ابھی یزید کا دستہ دکھائی دیتا ہے

عجب زماں ہے کہ ہر شخص ٹوٹا پھرتا ہے

میں جس سے ملتا ہوں خستہ دکھائی دیتا ہے

ابھی چراغ سا جلتا ہے چلمنوں کے ادھر

ابھی وہ جاگتا پھرتا دکھائی دیتا ہے


تبسم کاشمیری

No comments:

Post a Comment