آیتوں کی خوشبو ہے اور گلاب نیزے پر
آج کتنا روشن ہے آفتاب نیزے پر
جس میں دِینِ عظمت کے سارے باب لکھے ہیں
آسماں سے اُترا ہے وہ نصاب نیزے پر
دوجہاں میں پھیلی ہیں جس کے نُور کی کرنیں
زندگی نے رکھ دی ہے وہ کتاب نیزے پر
آج بھی اُداسی ہے دیکھ اس کی آنکھوں میں
کربلا نے دیکھا ہے ایسا خواب نیزے پر
اہلِ عشق کو دنیا یوں ہی آزماتی ہے
دِینِ حق کا ہوتا ہے انتخاب نیزے پر
ضیاء اللہ قریشی
No comments:
Post a Comment