Thursday, 25 March 2021

زندگانی وہ معتبر ہو گی

 زندگانی وہ معتبر ہو گی

جو محبت کے نام پر ہو گی

ہو گی پھولوں کی منزلت معلوم

عمر کانٹوں میں جب بسر ہو گی

دل رہے گا تو خونِ دل ہو گا

اشک ہوں گے تو چشم تر ہو گی

جو تجھے دیکھ کے پلٹ آئے

وہ نظر بھی کوئی نظر ہوگی

رات تو دن کی اک علامت ہے

رات ہوگی تو اک سحر ہو گی

رات بھر ہم جلیں گے فرقت میں​

روشنی آج رات بھر ہو گی

بے کلی کا گماں عطش تھا مگر

یہ نہ سمجھا تھا اس قدر ہو گی


ریاض الدین عطش

No comments:

Post a Comment