زندگانی وہ معتبر ہو گی
جو محبت کے نام پر ہو گی
ہو گی پھولوں کی منزلت معلوم
عمر کانٹوں میں جب بسر ہو گی
دل رہے گا تو خونِ دل ہو گا
اشک ہوں گے تو چشم تر ہو گی
جو تجھے دیکھ کے پلٹ آئے
وہ نظر بھی کوئی نظر ہوگی
رات تو دن کی اک علامت ہے
رات ہوگی تو اک سحر ہو گی
رات بھر ہم جلیں گے فرقت میں
روشنی آج رات بھر ہو گی
بے کلی کا گماں عطش تھا مگر
یہ نہ سمجھا تھا اس قدر ہو گی
ریاض الدین عطش
No comments:
Post a Comment