Thursday, 25 March 2021

دل شکستہ لوگوں کی آرزو نہیں ہوتی

 دل شکستہ لوگوں کی آرزو نہیں ہوتی

بِن گُلوں کے دنیا میں رنگ و بو نہیں ہوتی

زرد چہرہ فاقے کی مختصر کہانی ہے

کیوں غریب کی بیٹی خوبرو نہیں ہوتی

روز دل مہکتے ہیں، ہم زباں چہکتے ہیں

خاص گُفتگو کیسے کو بکو نہیں ہوتی

بے نشان رشتوں میں دل گُھٹن زدہ رہتا

عشق کی فضا اس میں چار سو نہیں ہوتی

بے قرار تنہائی رہتی ہے مِرے دل میں

اے مِری محبت اب صرف تُو نہیں ہوتی


مشال مراد

No comments:

Post a Comment