جل پری
میں ہر رات اسے
ایک بنفشی جال میں بند کر کے
تالاب میں چھوڑ دیتا ہوں
ایک دُور افتادہ سرمئی رات کو
وہ مجھے ایک استوائی ساحل پر ملی تھی
ہوا کے ایک سائبان تلے لیٹی ہوئی
مجھے دیکھ کر وہ ڈری، جھجکی اور گبھرائی
میں نے دوڑ کر اسے بازوؤں میں جکڑ لیا
وہ ایک پنچھی کی طرح پھڑپھڑائی
ایک مچھلی کی طرح تڑپی
اور پھر ایک مہربان عورت کی طرح
مجھ سے چمٹ گئی
شاید وہ کسی انسان کے بغیر
کئی صدیوں سے بہت اداس تھی
تبسم کاشمیری
No comments:
Post a Comment