Friday, 11 December 2020

جل پری

 جل پری


میں ہر رات اسے

ایک بنفشی جال میں بند کر کے

تالاب میں چھوڑ دیتا ہوں

ایک دُور افتادہ سرمئی رات کو

وہ مجھے ایک استوائی ساحل پر ملی تھی

ہوا کے ایک سائبان تلے لیٹی ہوئی

مجھے دیکھ کر وہ ڈری، جھجکی اور گبھرائی

میں نے دوڑ کر اسے بازوؤں میں جکڑ لیا

وہ ایک پنچھی کی طرح پھڑپھڑائی

ایک مچھلی کی طرح تڑپی

اور پھر ایک مہربان عورت کی طرح

مجھ سے چمٹ گئی

شاید وہ کسی انسان کے بغیر

کئی صدیوں سے بہت اداس تھی


تبسم کاشمیری

No comments:

Post a Comment