نوزائیدہ سے خطاب
یہاں سے آگے وہ راستہ ہے
کہ جس کی دہشت سے خود خداوند جاگتے ہیں
چھپے ہوئے ہیں
پڑے ہوئے ہیں کسی ازل آشنا کھنڈر میں
فلک بچھائے
سحاب اوڑھے
یہاں سے آگے وہ راستہ ہے
کہ جس پہ انسان چل رہا ہے
کسی ستارے پہ مارٹر گن
کسی جزیرے پہ سرخ پھولوں کی بارشیں ہیں
کسی مشیں کی گراریوں میں گلاب سا ہاتھ گھومتا ہے
کسی دھوئیں میں ہیں لعل و گوہر
تمہی ہو اس راستے کے رہبر
تمہی ہو رہزن، تمہی ہو رہرو
اٹھو کہ تم کو تمہارا رستہ
تمہارا بستہ بُلا رہا ہے
جاوید انور
No comments:
Post a Comment