Friday, 11 December 2020

یہاں سے آگے وہ راستہ ہے

 نوزائیدہ سے خطاب


یہاں سے آگے وہ راستہ ہے

کہ جس کی دہشت سے خود خداوند جاگتے ہیں

چھپے ہوئے ہیں

پڑے ہوئے ہیں کسی ازل آشنا کھنڈر میں

فلک بچھائے

سحاب اوڑھے

یہاں سے آگے وہ راستہ ہے

کہ جس پہ انسان چل رہا ہے

کسی ستارے پہ مارٹر گن

کسی جزیرے پہ سرخ پھولوں کی بارشیں ہیں

کسی مشیں کی گراریوں میں گلاب سا ہاتھ گھومتا ہے

کسی دھوئیں میں ہیں لعل و گوہر

تمہی ہو اس راستے کے رہبر

تمہی ہو رہزن، تمہی ہو رہرو

اٹھو کہ تم کو تمہارا رستہ

تمہارا بستہ بُلا رہا ہے


جاوید انور

No comments:

Post a Comment