مجھ کو ترے ملال سے فرصت نہیں ملی
اور زندگی وجود کے باہر کھڑی رہی
لکھا تھا اک کتاب میں ہر مسئلے کا حل
اور آخری سطور میں لکھا تھا خودکشی
کاٹیں گے کیسے عہدِ جدائی کسے خبر
ہم، جن سے ایک رات گزاری نہیں گئی
پہلے بدن پہ ہجر مسلط کیا گیا
پھر چیخ کر کہا گیا؛ اب کاٹ زندگی
اب آئینے میں عکس بھی بدلا ہوا دکھے
ہر ایک شے نے آپ کی صورت لپیٹ لی
داؤد سید
No comments:
Post a Comment