Friday, 11 December 2020

مجھ کو ترے ملال سے فرصت نہیں ملی

 مجھ کو ترے ملال سے فرصت نہیں ملی

اور زندگی وجود کے باہر کھڑی رہی

لکھا تھا اک کتاب میں ہر مسئلے کا حل

اور آخری سطور میں لکھا تھا خودکشی

کاٹیں گے کیسے عہدِ جدائی کسے خبر

ہم، جن سے ایک رات گزاری نہیں گئی

پہلے بدن پہ ہجر مسلط کیا گیا

پھر چیخ کر کہا گیا؛ اب کاٹ زندگی

اب آئینے میں عکس بھی بدلا ہوا دکھے

ہر ایک شے نے آپ کی صورت لپیٹ لی


داؤد سید

No comments:

Post a Comment