رات کو سوتے ہوئے رونے کا منظر دیکھنا
آنکھ کھلتے ہی پھر آنکھوں میں سمندر دیکھنا
کاتبِ تقدیر سے میں بات کر کے آیا ہوں
اب تو بدلے گا یقیناً یہ مقدر دیکھنا
اب امیدیں بھی نہیں ہیں روگ ہی ایسا لگا
مر گیا تو جانِ جاں تم مجھ کو رو کر دیکھنا
قابلِ عزت عدو ہے، محترم ہے یار بھی
میں نے سیکھا ہے بزرگوں سے برابر دیکھنا
دن مہینے سال کتنے ہو گئے جانِ وفا
آج بھی ہے یاد تیرا بن سنور کر دیکھنا
دی دعا استاد نے جب شعر کہنے کی مجھے
داد دینے آئے ہیں مجھ کو سخنور دیکھنا
آستینوں میں چھپے ہیں دشمنوں کے پھول اب
دوست ہاتھوں میں لیے آئیں گے خنجر دیکھنا
روبنسن روبی
No comments:
Post a Comment