Thursday, 11 November 2021

بدن پر آبلے تلوؤں پہ جب چھالوں کا قبضہ تھا

 بدن پر آبلے تلوؤں پہ جب چھالوں کا قبضہ تھا

تو ہر شہرِ ستم پر حوصلہ والوں کا قبضہ تھا

کھنڈر میں ہو گئے تبدیل جو اونچے محل کل تھے

سناہے ہم نے ان پر حور سے گالوں کا قبضہ تھا

وہاں اہلِ سیاست اب دوکاں اپنی چلاتے ہیں

جہاں بندوق دھاری مافیا والوں کا قبضہ تھا

سنا ہے میں نے ان کی گفتگو سے پھول جھڑتے تھے

زمانے کے دلوں پر جب غزل والوں کا قبضہ تھا

اب ان کے جسم پر عریاں مناظر رقص کرتے ہیں

کیلنڈر کے بدن پر کل ندی نالوں کا قبضہ تھا

یہ جب کی بات ہے ہم شہر میں شاعر نہ تھے اشرف

تو ایوانِ ادب پر بس سند والوں کا قبضہ تھا


اشرف یعقوبی

No comments:

Post a Comment