Thursday, 11 November 2021

عشق کی راہ میں ایسے بھی مقام آئے ہیں

 عشق کی راہ میں ایسے بھی مقام آئے ہیں 

تھک کے بیٹھے ہیں تو منزل کے سلام آئے ہیں 

کل یہی لوگ نہ دنیا کو مٹا دیں تو سہی 

لے کے جو زندہ و تابندہ نظام آئے ہیں 

ان کے دامن پہ ٹپکنے کا ملا ہے اعزاز 

ہائے کس وقت یہ آنسو مِرے کام آئے ہیں 

دل میں اک آگ لگا دیں گے یہ دلکش تارے 

جگمگاتے جو فلک پر سرِ شام آئے ہیں 

تیری نظروں سے ہم اربابِ محبت کے لیے 

جب بھی آئے ہیں محبت کے پیام آئے ہیں 

سوئے میخانہ کچھ اس شان سے آئے ہیں شمیم

جیسے مے خانے میں رندوں کے امام آئے ہیں 


شمیم فتحپوری

No comments:

Post a Comment