عشق کی راہ میں ایسے بھی مقام آئے ہیں
تھک کے بیٹھے ہیں تو منزل کے سلام آئے ہیں
کل یہی لوگ نہ دنیا کو مٹا دیں تو سہی
لے کے جو زندہ و تابندہ نظام آئے ہیں
ان کے دامن پہ ٹپکنے کا ملا ہے اعزاز
ہائے کس وقت یہ آنسو مِرے کام آئے ہیں
دل میں اک آگ لگا دیں گے یہ دلکش تارے
جگمگاتے جو فلک پر سرِ شام آئے ہیں
تیری نظروں سے ہم اربابِ محبت کے لیے
جب بھی آئے ہیں محبت کے پیام آئے ہیں
سوئے میخانہ کچھ اس شان سے آئے ہیں شمیم
جیسے مے خانے میں رندوں کے امام آئے ہیں
شمیم فتحپوری
No comments:
Post a Comment